Indian Flag   Jammu and Kashmir Police - Working for peace Jammu and Kashmir Police - Working for peace Jammu and Kashmir Police - Working for peace
   
  Dal Lake Lady Mountains
Home  |  News Bulletin  |  Tenders  |  News Letter  |  Press Room  |  Photo Gallery  |  Calender  |  Contact
JK Police
Partners for Peace
Directory
J&K Police Calendar 2008
 

پُولیس ہیڈ کوارٹرس جموں و کشمیر

  نئے سال کا پیغام

٢٠٠٨
عزم و استقلال کا سال

پیارے ساتھیو!
نئے سال کے موقعے پر سب سے پہلے میں اُن تمام جیالے جوانوں اور افسروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں ۔جنہوں نے ملک اور ریاست کی سالمیت کیلئے اپنی قیمتی جانیں نچھاور کیں ۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری ریاست تقریباً دو دہائیوں سے دہشت گردی کے بدترین دور سے گذر رہی ہے اور جموں و کشمیر پولیس و دیگر حفاظتی دستوں نے اس دوران امن کی بحالی کیلئے مشکل ترین حالات کا مقابلہ کر کے پانچ ہزار جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دیں ۔ ان میں سے1400  سے زاید ریاستی پولیس کے اہلکار و افسران، ایس پی اوز اور ولیج ڈیفنس کمیٹی ممبران بھی شامل ہیں ۔
گذشتہ سال کے دوران ہم نے ریاستی پولیس کے 22 جوانوں اور افسروں کو کھو دیا ہے اور ان قربانیوں کے طفیل ہی ریاست کی مجموعی حالات میں آج نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اپنی اس کارکردگی سے ریاستی پولیس نے ملک میں اپنا نام روشن کیا اور اب یہ فورس ملک کی ایک بہترین طاقت کے طور تسلیم ہوئی ہے ۔ اس فورس کی خاصیت یہ ہے کہ جہاں ایک باپ نے فورس میں رہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ۔تو وہیں پر بیٹے نے بھی اسی فورس میں شامل ہو کر ملک و قوم کی خاطر لڑتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کی ۔ اسی طرح ایک بھائی نے اگر پولیس میں اپنے فرایض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا درجہ حاصل کیا ۔تو وہیں پر دوسرے بھائی نے بھی فورس میں شامل ہو کر ریاست میں امن کی بحالی کیلئے جاری جنگ میں حصہ لیا ۔ یہ سب اُسی صورت میں ممکن ہو سکا جب ہم نے عزم‘و استقلال اور پکے ارادے سے کام کرنا شروع کیا اور آئیندہ بھی ہمیں اسی جوش و جذبہ سے کام لینا ہو گا ۔ اس طرح ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
جموں کشمیر پولیس کی مسلسل قربانیوں کے طفیل ہی آج لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں اگرچہ ابھی بھی ملی ٹینسی کی اکا دُکا وارداتیں رونما ہو رہی ہیں۔ لیکن پولیس اور دیگر حفاظتی دستوں کی مستعدی اور ٹھوس کاروائیوں سے ملی ٹینسی بہت حد تک قابو میں آ گئی ہے ۔ ملی ٹینسی کے ان برسوں کے دوران ہوئے تشدد کے واقعات کا اگر جائیزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ سالِ گذشتہ میں عام لوگوں کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ وہیں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی ناپاک کاروائیوں میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔
میرے ساتھیو !
آپ جانتے ہیں کہ گزرا ہوا سال جموں و کشمیر پولیس کیلئے زبردست چیلنجوں کا سال رہا ہے۔ کیونکہ ایک طرف جہاں ہم دہشت گردی سے نبرد آزما تھے۔ وہاں ہمیں مختلف جرائم چاہے وہ سرینگر کے نامور تاجر کا قتل ہو یا لنگیٹ کا دلدوز واقع ، راجباغ میں کمسن لڑکی کا قتل ، فرضی نوکریاں فراہم کرنے والے گروہ کا بے نقاب کرنا ، نقلی جوڈیشل پیپر کے سکینڈل میں ملوث ملزموں کی تلاش اور انہیں قانونی شکنجے میں لانا ہم نے کئی ایسے سنسنی خیز سکینڈل بھی طشت از بام کئے ۔ کئی پیچیدہ کیسوں کی گُتھی قلیل مدت میں ہی سلجھائی گئی جو لوگوں کیلئے باعث حیر ت ثابت ہوئے۔ اس طرح ریاستی پولیس کی بروقت کاروائیوں کو عام لوگوں کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ سب تبھی ممکن ہو پایا جب پولیس کے ہر ایک اہلکار نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے فرایض لگن اور عزم کے ساتھ انجام دئیے اسی کی بدولت یہ سال مجموعی طور پر پولیس کیلئے ایک کامیاب سال رہا ہے ۔

ریاست میں 19 سال کے بعد پہلی بار مذہبی اجتماعات اور جلوس پُر امن طریقے سے منعقد کئے گئے ۔اس سال عید الفطر کی نماز سرینگر کے تواریخی عید گاہ میں ادا کی گئی۔ جس میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اسی طرح سرینگر میں جنم اشٹمی کا جلوس نکالا گیا ۔ یہ تبھی ممکن ہوا جب جموں و کشمیر پولیس نے انتھک محنت ، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ فرایض انجام دئیے ۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جموں کشمیر پولیس کا ایک شاندار ریکارڈ ہے ۔ ملی ٹینسی کے واقعات سے نمٹنے کے دوران پولیس فورس نے زبردست صبر و تحمل سے کام لیا ہے ۔عام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کو ہمیشہ یقینی بنا دیا گیا ہے ۔
عزیزساتھیو !
جموں کشمیر پولیس اپنے شہید ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو جہاں سلام کرتی ہے۔ وہاں اُن کے لواحقین کی بہبودی کے لئے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ لواحقین کو فوری طور 6لاکھ روپے پولیس ویلفیئر فنڈ سے ادا کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ 5 لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا اور انشورنس اسکیم کے تحت اڑھائی لاکھ روپے بھی دیئے جاتے ہیں ۔ سویرا سکیم کے تحت بھی لواحقین کو امداد دی جاتی ہے ۔ ان کے بچوں کو تعلیمی وظیفے دئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ لواحقین کو علاج و معالجے کی مفت سہولیات بھی میسر ہیں۔
میں نے پولیس سربراہ کی ذمہ واری سنبھالتے ہی ان شہیدوں کے لواحقین کیلئے تمام پولیس سٹیشنوں و پولیس چوکیوں کے متعلقہ افسران مہتمم کو ہدات دی۔ کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں شہیدوں کے گھر جا کر اِن کنبوں کی فلاح و بہبود سے متعلق کاموں کی دیکھ ریکھ کرےں اور انہیں در پیش مسایل کے ازالہ کیلئے فوراً موثر اقدامات اٹھائےں ۔

پیارے ساتھیو !
اس کے علاوہ ایس۔ آر ۔اُو کے تحت نوکریاں فراہم کرنے کا عمل جاری ہے۔ 1990ءسے آج تک ملی ٹینسی سے متاثرہ کنبوں کو راحت پہنچانے کے لئے414افراد کو پولیس میں بھرتی کیا گیا ۔ اور اس وقت پوری پولیس فورس میں ایس۔ آر۔ اُو کا ایک بھی معاملہ التواءمیں نہیں ہے ۔گذشتہ سال ایس۔ آر۔ اُو کے تحت 246نوکریاں فراہم کی گئیں ہیں جن میں 77کانسٹیبل ،152 فالوور، انسپکٹر1 ، سب انسپکٹر1 اور سول سروسز میں15نوکریاں فراہم کی گئیں ۔
پیارے ساتھیو!
موجودہ مہنگائی اور نا مسائد حالات کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کو جن مشکلات کا سامنا ہے اُس سے حکومت بخوبی واقف ہے ان حالات میں جوانوں کی صحت کی جانب توجہ مرکوز کرنا لازمی ہے۔ اور اس سلسلہ میں راشن منی(Ration money) جوکہ اب تک فالوور سے انسپکٹر تک ماہانہ 450روپے دیا جاتا ہے کو مزید بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس کا ذکر حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ جناب غلام نبی آزاد نے سرینگر میں پولیس شہیدی دوس کے موقع پر کیا۔
سال ِروان کے دوران 2 بار سرینگر اور جموں میں پولیس پبلک میلوں کا انعقاد کیا گیا. ان میلوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شوق و ذوق کے ساتھ شرکت کی۔ان میلوں میں مختلف اشیاءکے سٹال قایم کئے گئے ۔جن میں اچھی خاصی خریداری ہوئی ۔ ریفل ڈرا میں رکھے گئے انعامات کی تعداد بڑھانے سے لوگوں کی کشش میں اضافہ ہوا ۔اور ریکارڈ تعداد میں ٹکٹیں فروخت ہوئیں ۔ سرینگر کے میلےمیں کئی برسوں کے بعد زبردست رونق دیکھنے کو ملی ۔ ان میلوں میں لوگوں کی ریکارڈ شرکت سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاستی پولیس اور شہریوں کے درمیان کتنے گہرے رشتے قایم ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ پولیس نے سماجی خدمات کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قایم کرنے کی سمت میں بھی کئی سنگ میل طے کئے اور خیر سگالی مشن کے طور پر کئی عوامی و فلاحی پروگرام بھی شروع کئے جن کا مختصر خلاصہ حسبِ ذیل ہے ۔
 غریب اور پچھڑے ہوئے علاقوں کے لوگوں کے لئے مفت طبی کیمپوں کا انعقاد ۔
 جسمانی طور معذور افراد میں مصنوعی عضاءکی فراہمی کیلئے پانچ لاکھ 34 ہزار روپے واگذار کئے گئے ۔
 پولیس اہلکاروں کے بچوں کو وظیفہ کے طور پر سالِ رواں میں تقریباً دس لاکھ روپے فراہم کئے گئے ان میں پولیس کے شہیدوں کے بچوں کے وظیفے بھی شامل ہیں اس کے علاوہ پولیس شہدا کے بچوں میں وردی اور درسی کتابیں بھی مفت فراہم کی گئیں ۔
سِوک ایکشن پروگرام کے تحت
 اولڈ ایج ہومز ، لیپراسی ہومز، یتیم خانوں ، بہرے اور گونگوں کے سکولوں
اور بال آشرم کی امداد۔
 ضرورت مندوں کے لئے سرائے ہا اور عام سہولیاتی مراکز کی تعمیر۔
 ملی ٹینسی سے متاثرہ کنبوں میں مالی امدادکی فراہمی۔

 ریاست میں کھیل کود کے میدان بھی بنائے گئے ۔
پیارے ساتھیو!
میں بحیثیت پولیس سربراہ اپنے جوانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی واقف ہوں اور پولیس اور اُن کے اہلِ خانہ کا معیار زندگی بڑھانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ سرینگر اور جموں میں پولیس ہسپتالوں کا درجہ بڑھا دیا گیا ہے۔ ان میں تشخیص اور علاج و معالجہ کا جدید سامان فراہم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ریاست کے دونوں دارالخلافوں میں پولیس پبلک سکولوں کا درجہ بھی بڑھادیا گیا تاکہ ان میں پولیس اہلکاروں کے بچوں کو بہتر تعلیم دی جا سکے۔ ان سکولوں میں درس و تدریس کے نظام کو جدید خطوط پر آراستہ کیا۔جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ وہیں لیبارٹریوں کو بھی جدید ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے ۔
پیارے ساتھیو!
سماجی ذمہ داریوں کے ایک حصے کے طور پر جموں وکشمیر پولیس طلباءاور سماج کے دیگر طبقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لئے ملک کے مختلف علاقوں کے سیر سپاٹے کا انتظام کر رہی ہے۔ گذشتہ سال کئی طالب علموں کو” بھارت درشن“ پر لیا گیا۔
فورسز میں پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے ٹریننگ ایک اہم جُز ہے۔ اس کیلئے ٹریننگ کے نظام کو بہتر اور جدید بنایا جا رہا ہے ۔ سالِ رفتہ کے دوران 7ہزار 5 سو اہلکاروں و آفیسروں کو جدید تربیت دی گئی ۔ ان میں 251 اہلکاروں و آفیسروں کو ریاست سے باہر تربیت کیلئے بھیجا گیا ۔
فورس میں کھیل کود پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ جس کی بدولت نوجوانوں میں باہم اعتماداور جوش پیدا ہوتا ہے۔سال رفتہ کے دوران کھیل کود کے میدان میں ہوئی سرگرمیوں پر نظر ڈالتے ہوئے مجھے انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے ہونہار کھلاڑیوں نے ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرکے ریاست کے وقار کو بڑھایا ہے۔ ہمارے لڑکوں نے ریاست اور بیرون ریاست کے مختلف ٹورنامنٹوں میں اچھی کارکردگی دکھاکرجموں وکشمیر پولیس کا نام روشن کیاہے۔اسی سال ستمبر کے مہینے میں جموں کشمیر پولیس کی کوہ پیماٹیم نے لیہہ میں 18975، فُٹ کی بلندی پر”سنتوک کانگڑی “ چوٹی پر جموں و کشمیر پولیس کا پرچم لہرا کر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے کوہ پیما ٹیم کے دو کھلاڑیوں کانسٹیبل سجاد حیدر اور کانسٹیبل رام سنگھ کو گنٹوک سِکم ٹریننگ کیمپ ( موئنٹ ایورسٹ ) کے لئے منتخب کیا گیا۔ جو ہمارے لئے ایک قابل فخر بات ہے اوریہ سفررواں دواں ہے ۔ اس کے علاوہ اس سال پہلی دفعہ قومی سطح کا ایک ریسلنگ ایونٹ کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں ملک بھر کی 20 ریاستوں کے کھلاڑیوں نے شیرکشمیر انڈور سٹیڈیم سرینگر میں شرکت کی ۔
جدید کاری(Modernization) پروگرام کے تحت سالِ رواں کے دوران 20 تھانہ عمارتیں تعمیر کی گئیں ۔ یہ عمارتیں ٹنگڈار ، کھیر بھوانی ، کریری ، پٹن، بس سٹینڈ کپواڑہ، بلنڈ کٹھو عہ لکھن پور کٹھوعہ ، رام سُو، رام بن، ڈورو، اننت ناگ، لیہہ کرگِل، دراس، گریز، پکھر پورہ ،جی ایم سی جموں، چڑوال کٹھوعہ، گلزار پورہ اونتی پورہ پوتکھا ہ بارہمولہ شامل ہیں ان میں ریکارڈنگ روم اور کُتب خانے، ریڈنگ روم ، بیت الخلائ، ضروری فرنیچر و فرنشنگ، پنکھے ، کولرس ، کھیل کود کا سامان ، پینے کا صاف پانی کنٹین اور تفریحی سہولیات بہم رکھی گئیں ہیں۔اسی پروگرام کے تحت تعمیر کئے گئے مزید سیکورٹی ہیڈ کوارٹر ٹٹو گراو ¿نڈ ، ایس ڈی پی او دفتر بڑی براہمناں ، اے ایس پی دفتر کرایم ریلویز جموں بھی شامل ہے۔

اسی طرح8ضلع ہیڈ کوارٹروں پر فارنسِک لیبارٹریز کے لئے نئی عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں لیہہ، کرگِل بارہمولہ بڈگام، پلوامہ، کٹھوعہ، راجوری اور اُودھم پورشامِل ہیں۔
سرینگر میں جدید طرز کا ایک چار منزلہ سی۔ آئی۔ ڈی ۔ ہیڈ کوارٹر کمپلیکس تعمیر کیا گیا اور اسی سال سے اس نئی تعمیر شدہ سی۔ آئی ۔ڈی ہیڈ کوارٹرکے تمام دفاتر نے ایک ہی چھت کے نیچے کام کرنا شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ لداخ ، راجوری، ڈوڈہ، پلوامہ اور بارہمولہ میں بھی نئے سی۔ آئی۔ ڈی دفاتر کیلئے نئی عمارتیں تعمیر کی گئیں ۔
5 ضلع صدر مقامات پر جن میں لیہہ،راجوری، بڈگام، اُدھمپور، بارہمولہ شامل ہیں ، میں ڈسٹرکٹ ٹیلی کام دفاتر کی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔
علاوہ ازیں سٹیشن ہائوس آفیسرز کے لئے 11 مختلفجگہوں پر رہائشی کوارٹر بنائے گئے جن میں ٹنگمرگ، بارہمولہ، کرناہ، ہندوارہ، کپواڑہ، ڈی ایچ پورہ اننت ناگ، اُودھمپور، اننت ناگ، نگر پرولی کٹھوعہ، کریری پٹن، لال پورہ کپواڑہ شامل ہیں۔
4جگہوں پر GO'sرہائشی کوارٹرس بنائے گئے ۔جن میں راجوری، گاندھی نگر جموں، آرمڈپولیس کمپلیکس چھنی ہمت اور زیون سری نگر شامل ہیں۔
سال کے دوران8جگہوں پر بڑے بیرکس بنائے گئے۔ جن میں گاندربل، چرارِ شریف، بال تل، سُونہ مرگ، ڈی۔ پی۔ ایل بارہمولہ، سُدھ مہادیو، اُودھمپور، لال پورہ اور بی۔ ٹی۔ سی تلوارہ شاملہیں۔
اسی طرح سال رواں کے دوران ستواری، لکھن پورہ کٹھوعہ، راجوری، گُول ڈوڈہ، سُرنکوٹ، مٹن، سری گفوارہ، کُکر ناگ ،زینہ پورہ شوپیاں، راج پورہ، پلوامہ، چرارِ شریف، چاڈورہ، اُوڑی، گریز، بانڈی پور، ترہہ گام، کپواڑہ، گُلمرگ، زانسکار، وِجے پور،پولیس سٹیشن ڈوڈہ، گاندربل، لیہہ، کرگِل ، کٹھوعہ، پی۔ٹی۔ایس۔ منی گام، سی ۔آئی۔ ڈی سِل نیو دہلی، چھنی ہمت، ٹریننگ سنٹرتلواڑہ، ایس ۔کے۔ پی۔ اے۔ اُودھم پور اور کپواڑہ میں رہایشی کوارٹرز تعمیر کئے گئے ۔
جبکہ بارڈر ایرا ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت چوگل ہندواڑہ، وارنوکپواڑہ، ٹیٹوال، مژھِل، پلانوالہ ، سنیال کٹھوعہ، مہرین کٹھوعہ، ساوتھ پول لیہہ، نارتھ پول لیہہ، نوبرا لیہہ، شفات نالہ، کُھربتھنگ، کھنگرال علاقوں میں بارڈر پولیس چوکیوں کیلئے عمارتیں تعمیر کی گئیں ۔
مرکزی امدادی سکیمکے تحت سال رواں کے دوران 22 پولیس سٹیشنوں جن میں کھاگ، بڈگام، ایس۔ ڈی۔ پی ۔ اُو۔ آفس بانڈی پورہ ، پولیس سٹیشن ٹنگمرگ ، پولیس سٹیشن کملکوٹ، پولیس سٹیشن گریز، پولیس سٹیشن تُلیل، پولیس سٹیشن کنزلون، ڈی۔پی۔ ایل۔ کپواڑہ، پولیس پوسٹ ہتمولہ، پولیس سٹیشن ما گام ہندواڑہ، پولیس سٹیشن چوگل ہندواڑہ، پولیس سٹیشن یاری پورہ، پولیس سٹیشن شوپیاں، ڈی۔ پی۔ ایل پلوامہ، پولیس سٹیشن پارمپور، پولیس سٹیشن سری گفوارہ،، پولیس پوسٹ چِلاّ ڈنگہ، مانسر اُودھم پور، بسنت گڑھ اُودھم پور، ایس ڈی۔ پی۔ اُو۔ آفس بھدرواہ اور کٹھوعہ میں واقع دفاتر کی چار دیواری کی گئی شامل ہیں ۔
پولیس ہائوسنگ کارپوریشن اورپولیس کنسٹرکشن ڈیژن کی طرف سے سال گذشتہ کے دوران ریاست کی مختلف جگہوں پر 19 متبادل رہائشی سہولیات تعمیر کی گئیں۔ جن میں اچھہ بل، وانٹی ویری ناگمٹن، بارہمولہ، کپواڑہ، پلوامہ، چرارِ شریف، پہلگام ، سوپور، بانڈی پور، گُریز، ہندوارہ، خانصاحب بڈگام، گُول رام بن، سُرنکوٹ پونچھ، جموں، بلاورکٹھوعہ اور رولکھا کٹھوعہ شامل ہیں ۔ سیکورٹی فورسز کو قابض عمارتوں سے منتقل کر کے نئی تعمیر شدہ عمارتوں میں منتقل کیا گیا۔ اس طرح ایسی19جگہوں کو عام لوگوں کےلئے خالی کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 21 سرکاری عمارتیں ، تین ہوٹل اور 15 پرائیویٹ مکان بھی شامل ہیں ۔
ملازموں کے جی۔ پی ۔ فنڈ کیسوں کو فوری طور نپٹانے کے لئے گذشتہ سال کے دوران محکمہ پولیس میں الگ سے ایک جی پی فنڈ سیل نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس قدم سے جہاں ملازموں کے جی پی فنڈ کھاتوں کا حساب و کتاب درست رہے گا۔ وہاں انہیں بروقت اپنی جمع کی ہوئی پونجی حاصل کرنے میں بھی کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اس طرح ملازموں کی ایک دیرینہ مانگ پوری کی گئی ہے ۔
سالِ رواں کے دوران ویلفئیر قرضوں کے تحت 125 جوانوں اور افسروں کو بغیر سود 22،80،000 روپے دئیے گئے جبکہ 59  افراد کو 2،50،000روپے بطور ریلیف دئیے گئے۔ بیسک ریکروٹمنٹ ٹریننگ سنٹر شیری بارہ مولہ میں کنٹین قایم کرنے کیلئے دو لاکھ روپے بطور قرضہ فراہم کئے گئے۔ دو یونٹوں میں تفریحی سہولیات فراہم کرنے کیلئے 20 ہزار روپے جبکہ واٹر کولر ز خریدنے کیلئے ,95826 روپے دستیاب رکھے گئے ۔ مالی طور کمزور 36 ریٹائیرڈ اہلکاروں کے حق میں 178000 روپے بطور امداد فراہم کی گئی ۔
سال رفتہ کے دوران پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور ملی ٹینسی و دیگر واقعات میں مارے گئے 126پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے حق میں خصوصی ویلفئیر فنڈ کے تحت6کروڑ56 لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی ۔اسی طرح ایکس گریشیا ریلیف کے تحت بھی 31 پولیس اہلکاروں ، بی ایس ایف کے16 ، سی آر پی ایف کے 16 ، 22 ایس پی اوز ، 2 وی ڈی سی ممبران کے لواحقین کے حق میں 1کروڑ72 لاکھ روپے کی رقمکی گئی ۔ اسی طرح ایکس گریشیا ریلیف کے تحت 12 پولیس اہلکار 38 بی ایس ایف اور 6 سی آر پی ایف کے زخمی جوانوں کے حق میں 14 لاکھ روپے واگذار کئے گئے ۔
اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر پولیس کے شہید ہوئے 32 جوانوں کے لواحقین کے حق میں 96 لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے ۔
محکمہ پولیس میں افسروں و جوانوں کو ترقیاں دینے کا عمل شدو مد سے جاری ہے۔ سال گذشتہ کے دوران 1208 سلیکشن گریڈ کانسٹیبلوں ، 802 ہیڈ کانسٹیبلوں ، 272 اے ایس آئیز ، 240 سب انسپکٹر ، 42 انسپکٹروں کو ترقیوں سے نوازا گیا۔ اسی دوران ایک انسپکٹر ،دو سب انسپکٹر، 2999 کانسٹیبلوں اور 622فالورزکو بھرتی کیا گیا ۔ گزٹیڈ کیڈر میں دو DIGs کو ترقی دے کرIGPs بنایا گیا ، دوDIGs کو گریڈ پرموشن اور دس SSPs کو DiGs بنایا گیا ۔ اسی طرح دس افسروں کو سلیکشن گریڈ سے نوازا گیا ، جونئیر ایڈمنسٹریٹو گریڈ9 افسروں کو دیا گیا ، دو آئی پی ایس افسروں کو سینئر سکیل دیا گیا ، سٹیٹ کیڈر کے 7 ایس پی کو سلیکشن گریڈ دیا گیا۔ وائیرلیس کے چار ڈی ایس پیز کو سلیکشن گریڈ دیا گیا ۔ ایگزیکٹو پولیس کے 30 ڈپٹی ایس پی کو ترقی دے کر ایس پی بنایا گیا ۔ جنرل کیڈر کے ٧٤ انسپکٹروں کو ڈی ایس پی بنایا گیا ۔ منسٹریل کیڈر میں تین انسپکٹروں کو ترقی دے کر ڈی ایس پی بنایا گیا ۔ اسی طرح وائیرلیس میں دو ایس پیز کو سلیکشن گریڈ دیا گیا اور پانچ ڈی ایس پیز کو ایس پی بنایا گیا ۔ وائیرلیس میں ہی 19انسپکٹروں کو ڈی ایس پی بنایا گیا ۔ فوٹو گرافری کیڈر میں ایک انسپکٹر کو ڈی ایس پی بنایا گیا ۔ پراسیکوشن میں ایک جے ڈی پی کو ڈائریکٹر پراسیکوشن بنایا گیا ۔ تین ڈی ڈی پیزکو جوائنٹ ڈائریکٹر پراسیکوشن بنایا گیا ۔ جبکہ 4 سی پی اوز کو ڈپٹی ڈائریکٹر پراسیکویشن اور آٹھ ایس پیز ،چیف پراسیکیوٹنگ افسرز بنائے گئے ، دو انسپکٹروں کو ورکشاپ میں ڈی ایس پی بنایا گیا ۔اس طرح سے گزٹیڈ کیڈر میں کُل 173 ترقیاں دی گئیں ۔
سِول ڈیفنس میں بھی ہم نے گُذشتہ سال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پوری ریاست میں 1061 نئے والینٹروں اور وارڈنوں کو ریاست اور بیرونِ ریاست میں تربیت دی۔ کئی اہم مسئلوں پر سیمنار منعقد کئے جس میں بھاری تعداد میں وارڈنوں، اہلکاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ سالِ رفتہ کے دوران 220 بے روز گار نوجوانوں کو ایگزلری پولیس میں تعینات کیا گیا۔اسی طرح کشمیر یونیورسٹی میں نیوکلر ڈیزاسٹر، کمیکل بیالوجی ڈیزاسٹر موضوع پر ایک روزہ سِول ڈیفنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک کے سرکردہ ماہرین نے حصہ لیا۔
ریاست بھر میں مختلف مذہبی اجتماعوں پر سِول ڈیفنس کے کیمپ لگائے گئے اس طرح لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ سِول ڈیفنس کی ان کوششوں کی بدولت عوام میں اس فورس کی قدر و منزلت میں کافی اضافہ ہو اہے۔
پیارے ساتھیو!
نئے سال کے مبارک موقعہ پر ہم پھر ایک بار اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک کی سالمیت ، ریاست کے امن ‘ خوشحالی اور قومی یک جہتی کیلئے ہم ہمیشہ عوام کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں گے اور ریاست میں پُر امن ماحول کو قایم کرکے ہی دم لیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے سال میں بھی ہمیں کئی چیلنجوں کا سامناکرنا پڑے گا۔اور مجھے امید ہے کہ ہمارے جوان اور افسران اپنے آپ میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر کے ریاست میں دیرپا امن کے مقدس مشن کو آگے بڑھائیں گے ۔اور تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ ریاست میں مکمل امن بحال نہ ہو ۔ جیسا کہ میں نے ابتداءمیں ہی ذکر کیاہے کہ ہم نہ صرف ریاستی عوام کے محافظ ہیں بلکہ ہم اُن کے دوست اور رہبر بھی ہیں ۔ریاستی پولیس کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ خدمتِ خلق میں یقین رکھتے ہیں اور اس طرح اس فورس نے عوام کا بھر پور اعتماد حاصل کیا ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔
نئے سال کے موقعہ پر میں آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کر کے دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ کو خوشحال اور اپنی حفاظت میں رکھے ۔
جے ہند

کلدیپ کُھڈا ۔ آئی پی ایس
ڈائریکٹر جنرل پولیس
جموں وکشمیر
جموں 31دسمبر2007

                                       

 

 
 

| Home | News Bulletin | Tenders  | Press Room | News Letter | Contact |

J & K    P O L I C E    -    I N     T H E    S E R V I C E    O F    T H E    N A T I O N    S I N C E   1873